جدال و قتال

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لڑائی اور خونریزی، جنگ و پیکار۔ "مقصد اس کا اس جدال و قتال سے صرف اس قدر تھا کہ اپنی بی بی بچوں کے لیے ساحل کے قریب کو محفوظ اور راحت بخش نشین حاصل کرے۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ١٩٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جدال' کے بعد حرف عطف 'و' لگا کر دوسرا عربی اسم کیفیت 'قتال' لگانے سے مرکب عطفی 'جدال و قتال' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٢ء میں "طلسم ہوشربا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لڑائی اور خونریزی، جنگ و پیکار۔ "مقصد اس کا اس جدال و قتال سے صرف اس قدر تھا کہ اپنی بی بی بچوں کے لیے ساحل کے قریب کو محفوظ اور راحت بخش نشین حاصل کرے۔"      ( ١٩٠١ء، جنگل میں منگل، ١٩٦ )

جنس: مؤنث